کاروار 6/ دسمبر (ایس او نیوز) ساگرمالا منصوبے کے تحت کاروار کی تجارتی بندرگاہ کی دوسرے مرحلے کی توسیع کی جانے والی ہے۔ لیکن ماہی گیر طبقے کی جانب سے اس منصوبے کی شدید مخالفت ہورہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس توسیعی منصوبے سے ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر بہت برے نتائج پڑیں گے۔اس کے علاوہ مالوحیات پر بھی منفی اثرات پڑنے کی بات کہی جارہی ہے۔
مگردیکھا جارہا ہے کہ مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اس منصوبے کو آگے کو بڑھایا جارہا ہے۔ حیدر آباد کی ایک کمپنی کو ٹینڈر کے ذریعے 125کروڑ روپے کی تعمیرات کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، اور ورک آرڈر بھی جاری کیا گیا ہے۔ جس کے بعد تعمیری کام کے لئے ضروری ساز وسامان لانے او بچوں کے پارک سے متصل احاطے میں ذخیرہ کرنے کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔مقامی ماہی گیروں نے اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ عوامی مخالفت کو نظر انداز کرکے کاروار کمرشیل پورٹ کی دوسرے مرحلے کی توسیع کو آگے نہ بڑھایا جائے۔